
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے قومی ٹیم کے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز شاہین شاہ آفریدی کی حالیہ خراب فارم کی بنیادی وجہ ناقص ورک لوڈ مینجمنٹ کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی برسوں میں تینوں فارمیٹس میں مسلسل کرکٹ کھیلنے کا اثر اب شاہین کی کارکردگی پر نمایاں نظر آ رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب شاہین آفریدی کو ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے بعد ان کی فارم اور فٹنس پر بحث مزید تیز ہوگئی۔
ٹیسٹ کرکٹ میں مشکلات برقرار
ایک وقت تھا جب شاہین شاہ آفریدی کو پاکستان کے تینوں فارمیٹس میں سب سے اہم فاسٹ بولر سمجھا جاتا تھا، لیکن 2023 میں گھٹنے کی سنگین انجری سے واپسی کے بعد سرخ گیند کی کرکٹ میں ان کی کارکردگی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔
اس عرصے کے دوران انہوں نے 16 ٹیسٹ اننگز میں صرف 27 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اوسط 40.11 جبکہ اسٹرائیک ریٹ 67.6 رہا۔
بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کی 0-2 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست کے دوران بھی شاہین کی کارکردگی تنقید کی زد میں رہی۔ خاص طور پر ان کی رفتار میں واضح کمی دیکھی گئی، جہاں وہ اکثر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی درمیانی رفتار سے بولنگ کرتے نظر آئے۔
محمد عامر نے پرانی پیش گوئی یاد دلا دی
The Scoop by Wisden میں گفتگو کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ انہوں نے کئی برس پہلے ہی اس صورتحال کی پیش گوئی کر دی تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے 2020 یا 2021 میں میڈیا کو خبردار کیا تھا کہ اگر شاہین کو مسلسل ہر فارمیٹ میں کھلایا جاتا رہا تو مستقبل میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عامر نے کہا کہ وہ خود بھی اسی مرحلے سے گزر چکے ہیں، اسی لیے انہیں اندازہ تھا کہ حد سے زیادہ ورک لوڈ ایک فاسٹ بولر کی رفتار، تسلسل اور فٹنس پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
"اصل مسئلہ ورک لوڈ مینجمنٹ ہے”
محمد عامر نے اپنے بیان میں کہا:
"گوگل یا یوٹیوب پر میری پرانی ویڈیو موجود ہے۔ میں نے 2020 یا 2021 میں کہا تھا کہ اگر شاہین آفریدی کو اسی طرح مسلسل کھلایا گیا تو ایک وقت آئے گا جب انہیں مشکلات پیش آئیں گی۔”
انہوں نے مزید کہا:
"انہیں رفتار، تسلسل، فٹنس، ہر شعبے میں مسائل کا سامنا ہوگا، اور اب یہ سب واضح نظر آ رہا ہے۔ وہ ابھی بھی نوجوان ہیں، انہیں اپنے عروج پر ہونا چاہیے، لیکن وہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا سبب ورک لوڈ مینجمنٹ ہے۔”
اعداد و شمار بھی محمد عامر کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں
اعداد و شمار کے مطابق اپنے بین الاقوامی کیریئر کے آغاز سے لے کر جولائی 2022 میں گھٹنے کی انجری تک شاہین شاہ آفریدی نے ٹیسٹ کرکٹ میں مجموعی طور پر 809.4 اوورز کرائے، جو اس عرصے میں کسی بھی پاکستانی بولر سے زیادہ تھے۔
اس فہرست میں سابق لیگ اسپنر یاسر شاہ 606.2 اوورز کے ساتھ دوسرے جبکہ فاسٹ بولر حسن علی 427.3 اوورز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس عرصے میں پاکستان کی بولنگ کا سب سے زیادہ بوجھ شاہین آفریدی نے اٹھایا۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی ٹی20 رینکنگ: صاحبزادہ فرحان دوسرے نمبر پر پہنچ گئے






