
تروبا میں برائن لارا اسٹیڈیم پر کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز محمد عباس نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کا آغاز ہی مشکلات سے دوچار کر دیا۔ چائے کے وقفے تک میزبان ٹیم نے تین وکٹوں کے نقصان پر 30 رنز بنائے تھے اور اسے پاکستان پر مجموعی طور پر 59 رنز کی برتری حاصل تھی۔
وقفۂ چائے تک ٹیگنارائن چندرپال 43 گیندوں پر 15 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے، جبکہ شائی ہوپ دو رنز بنا کر ان کا ساتھ دے رہے تھے۔
پاکستان کے تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس نے ایک ہی اوور میں برینڈن کنگ اور کیوم ہوج کو آؤٹ کر کے میچ کا رخ بدل دیا۔ برینڈن کنگ پانچ رنز بنا کر وکٹ کے پیچھے کیچ دے بیٹھے، جبکہ کیوم ہوج بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے، جس سے ویسٹ انڈیز کا اسکور صرف سات رنز پر دو وکٹیں ہو گیا۔
ابتدائی نقصان کے بعد چندرپال اور عامر جنگو نے 21 رنز کی مختصر شراکت قائم کی، تاہم محمد علی نے اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ لیتے ہوئے جنگو کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ جنگو صرف چار رنز ہی بنا سکے۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو پہلی اننگز میں 282 رنز پر آؤٹ کر کے 29 رنز کی برتری حاصل کی۔ پاکستان کی آخری وکٹ خرم شہزاد کی صورت میں گری، جنہوں نے 19 رنز کی مفید اننگز کھیلی، جس میں دو چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے جسٹن گریوز سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے لنچ کے بعد محمد عباس کو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ کر کے اپنی پانچ وکٹیں مکمل کیں۔
پاکستان کی آخری وکٹ سے قبل محمد علی اور خرم شہزاد نے 15 رنز کی شراکت قائم کر کے خسارہ کچھ کم کیا، لیکن کیمار روچ نے خرم شہزاد کو آؤٹ کر کے پاکستان کی اننگز کا اختتام کر دیا۔
لنچ کے وقت پاکستان کی پوزیشن خاصی کمزور تھی۔ قومی ٹیم آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 267 رنز بنا چکی تھی اور اب بھی 44 رنز کے خسارے کا شکار تھی۔ اس وقت خرم شہزاد آٹھ رنز پر کھیل رہے تھے جبکہ محمد عباس نے ابھی کھاتہ نہیں کھولا تھا۔
تیسرے روز کھیل کے آغاز پر شان مسعود اور سلمان علی آغا نے گزشتہ روز کے 199 رنز تین کھلاڑی آؤٹ سے اننگز کا دوبارہ آغاز کیا۔ دونوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 45 رنز کی اہم شراکت قائم کی، تاہم سلمان علی آغا کیمار روچ اور جیڈن سیلز کی نپی تلی بولنگ کے سامنے زیادہ پراعتماد دکھائی نہ دیے۔
شان مسعود، جو 88 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے، نے اننگز کے 56ویں اوور میں ایک رن لے کر اپنی شاندار سنچری مکمل کی۔ اس موقع پر پاکستان کا اسکور تین وکٹوں پر 244 رنز تھا اور ٹیم مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی تھی۔
تاہم اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے بولرز نے زبردست واپسی کی۔ پاکستان نے صرف سات اوورز کے دوران مزید 15 رنز کے اضافے سے اپنی چھ وکٹیں گنوا دیں، جس نے پوری اننگز کا نقشہ بدل دیا۔
جسٹن گریوز نے اس تباہ کن اسپیل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نے صرف چار اوورز میں بغیر کوئی رن دیے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین بولنگ کا ریکارڈ قائم کیا۔
پاکستانی بیٹنگ لائن کا انہدام شمر جوزف نے سلمان علی آغا کی وکٹ حاصل کر کے شروع کیا۔ آغا خوبصورت گیند پر بولڈ ہوئے اور 20 رنز بنا سکے۔
اگلے ہی اوور میں گریوز نے شان مسعود کو بھی پویلین بھیج دیا۔ پاکستانی کپتان 184 گیندوں پر 109 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، جس میں 12 چوکے شامل تھے۔
اس کے بعد جسٹن گریوز نے عامر جمال کو تین رنز پر بولڈ کیا، جبکہ ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے علی عثمان کو بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ ان کی شاندار بولنگ کے باعث پاکستان کا اسکور 256 رنز پر سات وکٹیں ہو گیا۔
اختتامی بلے بازوں کی آمد کے بعد امید تھی کہ محمد رضوان ٹیم کا خسارہ کم کریں گے، لیکن وہ آف اسٹمپ سے باہر جاتی گیند پر شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وکٹ کیپر شائی ہوپ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ رضوان صرف 12 رنز بنا سکے اور پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔
مزید پڑھیں: GSL 2026: لاہور قلندرز نے عبداللہ شفیق کا متبادل مقرر کر دیا






