
ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شکست نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے نام ایک ایسا ریکارڈ درج کر دیا ہے جسے کوئی بھی ٹیم اپنے ساتھ نہیں جوڑنا چاہتی۔ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، تاروبا میں 90 رنز کی ناکامی کے بعد قومی ٹیم بیرونِ ملک ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل آٹھ میچ ہارنے والی اپنی تاریخ کی بدترین دوڑ تک پہنچ گئی۔
یہ شکست پاکستان کے لیے صرف ایک میچ کی ناکامی نہیں بلکہ گزشتہ دو برس سے جاری بیرونِ ملک خراب کارکردگی کی ایک اور کڑی ثابت ہوئی۔ اس نتیجے کے ساتھ قومی ٹیم نے اپنے سابقہ تمام منفی ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیے۔
پاکستان کی یہ مسلسل ناکامیوں کا سلسلہ 2023-24 کے آسٹریلیا کے دورے سے شروع ہوا تھا۔ اس سیریز میں گرین شرٹس کو پرتھ، میلبورن اور سڈنی میں تینوں ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیم وائٹ واش سے نہ بچ سکی۔
اس کے بعد جنوبی افریقہ کے دورے میں بھی صورتحال تبدیل نہ ہو سکی۔ سنچورین میں پاکستان کو دو وکٹوں سے شکست ہوئی جبکہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں میزبان ٹیم نے دس وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے سیریز پر مکمل برتری قائم رکھی۔
مئی 2026 میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز بھی پاکستان کے لیے مایوس کن ثابت ہوئی۔ ڈھاکا میں قومی ٹیم کو 104 رنز سے شکست ہوئی، جبکہ سلہٹ ٹیسٹ میں بنگلہ دیش نے 78 رنز سے کامیابی حاصل کر کے دونوں میچ اپنے نام کیے۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف تازہ ترین ٹیسٹ میں پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا تھا، جسے حاصل کرنے میں ٹیم مکمل طور پر ناکام رہی۔ اگرچہ آخری اننگز کے آغاز پر مقابلہ دونوں ٹیموں کے درمیان برابر دکھائی دے رہا تھا، لیکن پاکستانی بیٹنگ لائن دباؤ برداشت نہ کر سکی اور پوری ٹیم صرف 120 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
اس شکست کے بعد ویسٹ انڈیز نے یادگار فتح اپنے نام کی، جبکہ پاکستان بیرونِ ملک ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل آٹھ شکستوں کے ساتھ اپنی تاریخ کے بدترین ریکارڈ کا حامل بن گیا۔ قومی ٹیم اب آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کسی بھی غیر ملکی ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: پہلے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کو 90 رنز سے شکست






