
تاروبا: پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شکست کی بنیادی وجوہات بیٹنگ کی ناکامی اور دباؤ کے لمحات میں مؤثر شراکت داریاں قائم نہ کر پانا قرار دیں۔
پاکستان کو برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں 211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 120 رنز پر آل آؤٹ ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں میزبان ٹیم نے 90 رنز سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے مقابلے کے زیادہ تر حصے میں اچھی کرکٹ کھیلی، تاہم فیصلہ کن مرحلے پر بیٹنگ توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران ٹیم کی کارکردگی بہتر رہی، لیکن آخری دن پوری بیٹنگ لائن ناکام رہی۔ ان کے مطابق وکٹیں مسلسل گرتی رہیں اور یہی پہلو شکست کی بڑی وجہ بنا، جس پر ٹیم مسلسل کام کر رہی ہے۔
بابر اعظم نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ شکست کی اصل وجہ صرف پچ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی گیند کے ساتھ کچھ مدد ملنے کی توقع پہلے ہی تھی، کیونکہ وہاں کے حالات میں ایسا ہونا معمول کی بات ہے۔
پاکستانی کپتان کے مطابق ویسٹ انڈیز کے باؤلرز نے حالات کا بہتر انداز میں فائدہ اٹھایا اور میچ کے دوران دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چوتھے روز گیند کہیں نیچی رہ رہی تھی اور اس کا اچھال بھی یکساں نہیں تھا، لیکن پاکستان اس کے باوجود بڑی شراکت داریاں قائم کرنے میں ناکام رہا۔
بابر اعظم نے شان مسعود کی عدم موجودگی کو بھی بیٹنگ لائن کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ شان مسعود انگلی میں فریکچر کے باعث میچ میں دستیاب نہیں تھے، جس کا ٹیم پر اثر ضرور پڑا۔
انہوں نے کہا کہ شان مسعود جیسے تجربہ کار اوپنر کی کمی محسوس ہوئی، لیکن دیگر بلے بازوں کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ نئی گیند کا کامیابی سے سامنا کرتے، ابتدائی 20 اوورز گزارنے کے بعد مضبوط شراکت داریاں قائم کرتے اور پھر بڑی اننگز کھیلتے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔
شکست کے باوجود بابر اعظم نے دوسرے ٹیسٹ کے لیے امید کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم انتظامیہ تمام غلطیوں کا تفصیل سے جائزہ لے گی اور آئندہ میچ میں بہتر کارکردگی دکھانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پہلا نتیجہ پاکستان کے حق میں نہیں آیا، لیکن ٹیم اپنی خامیوں کو دور کرکے اگلے مقابلے میں بہتر انداز میں واپس آنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: پہلے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کو 90 رنز سے شکست






